banner image

Home ur Surah Al Baqarah ayat 166 Translation Tafsir

اَلْبَقَرَة

Al Baqarah

HR Background

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ(166)

ترجمہ: کنزالایمان جب بیزار ہوں گے پیشوا اپنے پیروؤں سے اور دیکھیں گے عذاب اور کٹ جائیں گی ان کی سب ڈوریں۔ ترجمہ: کنزالعرفان جب پیشوااپنے پیروی کرنے والوں سے بیزار ہوں گے اور عذاب دیکھیں گے اور سب رشتے ناتے کٹ جائیں گے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا: جب پیشوا بیزار ہوں گے۔} یہاں قیامت کے دن کی منظر کشی ہے جب مشرکین اور ان کے پیشوا جنہوں نے انہیں کفر کی ترغیب دی تھی ایک جگہ جمع ہوں گے اور عذاب نازل ہوتا ہوا دیکھیں گے تو ایک دوسرے سے بیزاری و نفرت کا اظہار کریں گے۔ پیروکار تو کہیں گے، اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، ہم نے اپنے ان سرداروں کی پیروی کی اور انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر،جبکہ پیشوا اپنے پیروکاروں سے نفرت و بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یہ مضمون قرآن پاک میں متعدد جگہوں پر بیان کیا گیا ہے مثلاً سورۂ احزاب آیت66تا 68 اور سورۂ سَبا آیت 31تا 33 وغیرہ۔

{وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ: اور سب رشتے ناتے کٹ جائیں گے۔}یعنی قیامت کے دن کافروں کے وہ تمام تعلقات جو دنیا میں ان کے مابین تھے خواہ وہ دوستیاں ہوں یا رشتہ داریاں یا باہمی موافقت کے عہدوہ سب ختم ہوجائیں گے اور ہر کوئی اپنے اعمال کا جوابدہ ہوگا ، کوئی کسی کا مددگار نہ بن سکے گا۔ یاد رہے کہ قیامت کے دن کفار کے رشتے تو ٹوٹ جائیں گے لیکن اولیاء و متقین و صالحین کے ساتھ مسلمانوں کا رشتہ باقی رہے گاجیسے قرآن پاک میں ہے:

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ(الزخرف:۶۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پرہیزگاروں کے علاوہ اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔