banner image

Home ur Surah Al Hujurat ayat 3 Translation Tafsir

اَلْحُجُرٰت

Al Hujurat

HR Background

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(3)

ترجمہ: کنزالایمان بیشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسولُ اللہ کے پاس وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک جولوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ: بیشک جولوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں ۔} شانِ نزول:جب یہ آیت ’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ‘‘ نازل ہوئی تو اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ،حضرت عمر فاروق اورکچھ دیگر صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے بہت احتیاط لازم کر لی اورسرکارِدو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت ِاَقدس میں بہت ہی پَست آواز سے عرض معروض کرتے (جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے)، ان حضرات کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور ان کے عمل کو سراہتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا’’بیشک جولوگ ادب اور تعظیم کے طور پر اللہ تعالیٰ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں اپنی آوازیں پَست رکھتے ہیں ،یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے پرہیز گاری کے لئے پَرَکھ لیا (اور ان میں موجود پرہیز گاری کو ظاہر فرما دیا) ہے، ان کے یے آخرت میں بخشش اور بڑا ثواب ہے۔( جلالین مع صاوی، الحجرات، تحت الآیۃ: ۳، ۵ / ۱۹۸۷-۱۹۸۸)

آیت ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ‘‘ سے حاصل ہونے و الی معلومات:

            اس آیت سے 5 باتیں  معلوم ہوئیں

(1)… تمام عبادات بدن کا تقویٰ ہیں  اور حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب دل کا تقویٰ ہے۔

(2)…اللہ تعالیٰ نے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے دل تقویٰ کے لئے پَرَکھ لئے ہیں  تو جو انہیں  مَعَاذَاللہ فاسق مانے وہ  اس آیت کا مُنکر ہے۔

(3)…صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ انتہائی پرہیز گار اور اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرنے والے تھے کیونکہ جس نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللہ تعالیٰ کا رسول مان لیا اور آپ کی اس قدر تعظیم کی کہ آپ کے سامنے اس ڈر سے اپنی آواز تک بلند نہ کی کہ کہیں بلند آواز سے بولنے کی بنا پر اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں تو ا س کے دل میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کا خوف کتنا زیادہ ہو گا۔

(4)… حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی بخشش یقینی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بخشش کا اعلان فرمادیا ہے۔

(5)… ان دونوں بزرگوں کا اجر وثواب ہمارے وہم وخیال سے بالا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے عظیم فرمایا ہے۔

حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی شان:

حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی معذوری کے باوجود اپنے اوپر یہ لازم کر لیا تھا کہ وہ کبھی نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آواز پر اپنی آواز بلند نہیں کریں گے ،ان کے بارے میں حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہم اہلِ جنت میں سے ایک شخص کو اپنے سامنے چلتا ہوا دیکھتے تھے اور جب یمامہ کے مقام پر مُسیلمہ سے جنگ ہوئی تو حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیکھا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ شکست کھا گیا ہے ،یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا: ان لوگوں پر افسوس ہے ،پھر حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے غلام حضرت سالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا:ہم رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے اس طرح جنگ نہیں کیا کرتے تھے۔پھر یہ دونوں ڈٹ گئے اور لڑائی کرتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کے بعد ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے انہیں خواب میں  دیکھا،انہوں  نے فرمایا:فلاں شخص میری زِرہ اتار کر لے گیا ہے اور وہ لشکر کے کونے میں گھوڑے کے پاس پتھر کی ہنڈیا کے نیچے رکھی ہوئی ہے ،لہٰذ آپ حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس جائیں اور انہیں اس کی خبر دیں تاکہ وہ میری  زِرہ واپس لے سکیں اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس جائیں اور ان سے عرض کریں :مجھ پر قرض ہے ، تاکہ وہ میرا قرض ادا کردیں اور میرا فلاں غلام آزاد ہے۔چنانچہ ان صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو اس کی خبر دی تو انہوں نے  زِرہ اور گھوڑے کو اسی طرح پایاجیسے حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے بیان فرمایا تھا، انہوں نے  زِرہ لے لی اور حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو اس خواب کی خبر دی۔ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی وصیت کو نافذ کر دیا۔ حضرت مالک بن انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : مجھے اس وصیت کے علاوہ کوئی ایسی وصیت معلوم نہیں جو کسی کی وفات کے بعد نافذ کی گئی ہو۔( صاوی، الحجرات، تحت الآیۃ: ۳، ۵ / ۱۹۸۸)