banner image

Home ur Surah Al Munafiqun ayat 9 Translation Tafsir

اَلْمُنٰفِقُوْن

Al Munafiqun

HR Background

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(9)

ترجمہ: کنزالایمان اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے گاتو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:اے ایمان والو! } اس سے پہلی آیات میں  منافقوں  کے اَحوال بیان کئے گئے اور اب یہاں  سے ایمان والوں  کو نصیحت کی جا رہی ہے کہ اے ایمان والو! منافقوں  کی طرح تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں  اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل نہ کردے اور جوایسا کرے گا کہ دنیا میں  مشغول ہو کر دین کو فراموش کردے گا، مال کی محبت میں  اپنے حال کی پروا ہ نہ کرے گا اور اولاد کی خوشی کیلئے آخرت کی راحت سے غافل رہے گاتو ایسے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں  کیونکہ اُنہوں  نے فانی دنیا کے پیچھے آخرت کے گھرکی باقی رہنے والی نعمتوں کی پرواہ نہ کی۔( خازن، المنافقون، تحت الآیۃ: ۹، ۴ / ۲۷۴، مدارک، المنافقون، تحت الآیۃ: ۹، ص۱۲۴۵، ملتقطاً) یہاں  آیت کی مناسبت سے دنیا کے مال سے متعلق ایک حدیث ِپاک ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت حکیم بن حزام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  :میں  نے رسولِ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کچھ مال کا سوال کیااور بہت اِلتجاء کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اے حکیم! تمہارا اتنی کثرت سے سوال کرنا کیا ہے ؟اے حکیم!بے شک یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے اور ا س کے ساتھ ساتھ وہ لوگوں  کے ہاتھوں  کا میل ہے،اللّٰہ تعالیٰ کا ہاتھ دینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور دینے والے کا ہاتھ اس کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے جسے دیا گیا اور جسے دیا گیا اس کا ہاتھ سب سے نیچے ہوتا ہے۔( مسند امام احمد، مسند المکیین، مسند حکیم بن حزام، ۵ / ۲۲۸، الحدیث: ۱۵۳۲۱)