banner image

Home ur Surah Maryam ayat 64 Translation Tafsir

مَرْيَم

Maryam

HR Background

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَۚ-لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَۚ-وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّا(64)

ترجمہ: کنزالایمان ۔ (اور جبریل نے محبوب سے عرض کی) ہم فرشتے نہیں اُترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے اور حضور کا رب بھولنے والا نہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ہم فرشتے صرف آپ کے رب کے حکم سے ہی اترتے ہیں ۔ سب اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ:ہم فرشتے صرف آپ کے رب کے حکم سے ہی اترتے ہیں  ۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام  سے فرمایا:ا ے جبریل! عَلَیْہِ  السَّلَام، تم جتنا ہمارے پاس آتے ہو اس سے زیادہ کیوں  نہیں  آتے؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔( بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ، ۲ / ۳۸۴، الحدیث: ۳۲۱۸) اور حضرت جبریل عَلَیْہِ  السَّلَام نے  اللہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  عرض کی:یا رسولَ  اللہ !صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم فرشتے صرف آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے ہی اترتے ہیں  اور تمام جگہوں  کا وہی مالک ہے ، ہم ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف نقل و حرکت کرنے میں  اس کے حکم و مَشِیَّت کے تابع ہیں  ، وہ ہر حرکت و سکون کا جاننے والا اور غفلت و نِسیان سے پاک ہے ، اس لئے وہ جب چاہے گا ہمیں  آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  بھیجے گا۔( مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۶۴، ص۶۷۹)

 اللہ تعالیٰ بھول سے پاک ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ  اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ وہ کچھ بھول جائے۔ اِس سے ان لوگوں  کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنے کی سخت ضرورت ہے جو مذاق میں  کسی بوڑھے کے بارے میں  یا کسی چیز کے بارے میں  کہہ دیتے ہیں  کہ  اللہ تعالیٰ تو اسے بھول ہی گیا ہے۔ یہ کہنا صریح کفر ہے اور ایسا کہنے والا کافر ہے۔