banner image

Home ur Surah Al Araf ayat 91 Translation Tafsir

اَلْاَعْرَاف

Al Araf

HR Background

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ(91)

ترجمہ: کنزالایمان تو انہیں زلز لے نے آ لیا تو صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو انہیں شدید زلز لے نے اپنی گرفت میں لے لیا تو صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ:تو انہیں شدید زلز لے نے اپنی گرفت میں لے لیا۔} جب حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی گمراہی اپنی انتہا کو پہنچ گئی اور ہر طرح سے سمجھانے، عذابِ الٰہی سے ڈرانے کے باوجود بھی یہ لوگ اپنی سر کشی سے باز نہ آئے توان پر اللہ تعالیٰ کاعذاب نازل ہوا۔

اہلِ مدین پر آنے والے عذاب کی کیفیت:

            اس آیت میں ہے کہ اہلِ مدین کو ’’شدید زلز لے نے اپنی گرفت میں لے لیا۔‘‘ جبکہ سورۂ ہود میں اس طرح ہے :

’’ وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ ‘‘ (ہود:۹۴)                 

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور ظالموں کو خوفناک چیخ نے پکڑ لیا۔

            تفسیر ابوسعود میں ہے ’’ ممکن ہے کہ زلزلے کی ابتداء اس چیخ سے ہوئی ہو، اس لئے کسی جگہ جیسے سورۂ ہود میں ہلاکت کی نسبت سببِ قریب یعنی خوفناک چیخ کی طرف کی گئی اور دوسری جگہ جیسے اس آیت میں سببِ بعید یعنی زلزلے کی طرف کی گئی۔ (ابو سعود، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۱، ۲ / ۲۷۶)           

حضرت قتادہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اصحابِ اَیکَہ کی طرف بھی مبعوث فرمایا تھا اور اہلِ مدین کی طرف بھی ۔اصحابِ ایکہ توابر سے ہلاک کئے گئے اور اہلِ مدین زلزلہ میں گرفتار ہوئے اور ایک ہولناک آواز سے ہلاک ہوگئے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۱، ۲ / ۱۲۰)