banner image

Home ur Surah Ad Dukhan ayat 51 Translation Tafsir

اَلدُّخَان

Ad Dukhan

HR Background

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍ(51)فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ(52)یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ(53)كَذٰلِكَ- وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍﭤ(54)یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَ(55)لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰىۚ-وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ(56)فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(57)

ترجمہ: کنزالایمان بیشک ڈر والے امان کی جگہ میں ہیں ۔ باغوں اور چشموں میں ۔ پہنیں گے کَریب اور قَنادِیز آمنے سامنے۔ یونہی ہے اور ہم نے انہیں بیاہ دیا نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں والیوں سے۔ اس میں ہر قسم کا میوہ مانگیں گے امن و امان سے۔ اس میں پہلی موت کے سوا پھر موت نہ چکھیں گے اور اللہ نے اُنہیں آگ کے عذاب سے بچالیا۔ تمہارے ربّ کے فضل سے یہی بڑی کامیابی ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک ڈر والے امن والی جگہ میں ہوں گے۔ باغوں اور چشموں میں ۔ باریک اور موٹے ریشم کے لباس پہنیں گے،ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔ یونہی ہوگا اور نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں والی عورتوں سے ہم نے ان کا نکاح کردیا۔ وہ جنت میں بے خوف ہوکرہر قسم کا پھل میوہ مانگیں گے۔ اس میں پہلی موت کے سوا پھر موت کا ذائقہ نہ چکھیں گے اور اللہ نے انہیں آگ کے عذاب سے بچالیا۔ تمہارے رب کے فضل سے، یہی بڑی کامیابی ہے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ: بیشک ڈرنے والے۔} اس سے پہلی آیات میں  کفار کے لئے وعید کا بیان ہوا اور یہاں  سے پرہیز گاروں  کے ساتھ کئے گئے وعدہ کا بیان ہورہا ہے۔ اس آیت اور اس کے بعد والی چھ آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک کفر اور گناہ کرنے میں  اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ایسی جگہ میں  ہوں  گے جہاں  انہیں  آفات سے امن نصیب ہوگا اور انہیں  اس امن والی جگہ کے چھوٹ جانے کا کوئی خوف نہ ہوگابلکہ یقین ہوگا کہ وہ وہیں  رہیں  گے،وہ اس جگہ ہوں  گے جہاں  باغ اور بہنے والے چشمے ہوں  گے ،وہاں  وہ باریک اور موٹے ریشم کے لباس پہنیں  گے اور وہ اپنی مجلسوں  میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ا س طرح ہوں  گے کہ کسی کی پشت کسی کی طرف نہ ہو گی۔جنتی اسی طرح ہمیشہ دل پسند نعمتوں  میں رہیں  گے اور نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں  والی خوبصورت عورتوں  سے ہم ان کی شادی کریں  گے۔وہ جنت میں  اس طرح بے خوف ہو کر اپنے جنتی خادموں  کو میوے حاضر کرنے کا حکم دیں  گے کہ انہیں  کسی قسم کا اندیشہ ہی نہ ہوگا، نہ میوے کم ہونے کا ،نہ ختم ہوجانے کا ،نہ نقصان پہنچانے کا ،نہ اور کوئی اندیشہ ہو گا۔وہ دنیا میں  واقع ہونے والی پہلی موت کے سوا جنت میں پھر موت کا ذائقہ نہ چکھیں  گے اور اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللہ تعالیٰ نے آپ کے رب کے فضل سے انہیں  آگ کے عذاب سے بچالیا اوراس سے نجات عطا فرمائی ، یہی بڑی کامیابی ہے۔( روح البیان، الدخان،تحت الآیۃ: ۵۱-۵۷، ۸ / ۴۲۸-۴۳۱، جلالین، الدخان، تحت الآیۃ: ۵۱-۵۷، ص۴۱۲، مدارک، الدخان، تحت الآیۃ: ۵۱-۵۷، ص۱۱۱۴-۱۱۱۵، ملتقطاً)