banner image

Home ur Surah Al Baqarah ayat 277 Translation Tafsir

اَلْبَقَرَة

Al Baqarah

HR Background

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ(276)اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(277)

ترجمہ: کنزالایمان اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی ناشکربڑا گنہگار ۔ بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا نیگ ان کے رب کے پاس ہے، اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو، نہ کچھ غم ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے، بڑے گنہگار کوپسند نہیں کرتا۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا: اللہ سود کو مٹاتا ہے۔} اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور سود خورکو برکت سے محروم کرتا ہے۔ حضرت عبداللہ  بن  عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ اللہ  تعالیٰ سود خورکا نہ صدقہ قبول کرے، نہ حج، نہ جہاد، نہ رشتے داروں سے حسنِ سلوک۔ (تفسیر قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۷۶، ۲ / ۲۷۴، الجزء الثالث)

             اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے جبکہ صدقہ و خیرات کو زیادہ کرتا ہے، دنیا میں اس میں برکت پیدا فرماتا ہے اور آخرت میں اس کا اجرو ثواب بڑھاتا ہے چنانچہ اللہ  تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ(۳۹)‘‘(روم: ۳۹)

ترجمۂ       کنزُالعِرفان:اور جو تم اللہ کی رضا چاہتے ہوئے زکوٰۃ دیتے ہو تو وہی لوگ (اپنے مال)بڑھانے والے ہیں۔

             اور صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کھجور برابر حلال کمائی سے صدقہ کرے اور اللہ  حلال ہی کو قبول فرماتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس صدقے کو قبول فرماتا ہے پھر اسے اُس کے مالک کے لئے پرورش کرتا ہے جیسے تم میں کوئی اپنے بچھڑے کی تربیّت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔  (بخاری، کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ من کسب طیّب، ۱ / ۴۷۶، الحدیث: ۱۴۱۰)