banner image

Home ur Surah Al Mudassir ayat 37 Translation Tafsir

اَلْمُدَّثِّر

Al Mudassir

HR Background

كَلَّا وَ الْقَمَرِ(32)وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَ(33)وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَ(34)اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِ(35)نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِ(36)لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَﭤ(37)

ترجمہ: کنزالایمان ہاں ہاں چاند کی قسم ۔ اور رات کی جب پیٹھ پھیرے۔ اور صبح کی جب اُجا لا ڈالے ۔ بے شک دوزخ بہت بڑی چیزوں میں کی ایک ہے۔ آدمیوں کو ڈراوا ۔ اُسے جو تم میں چاہے کہ آگے آئے یا پیچھے رہے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان خبردار! چاند کی قسم ۔ اور رات کی جب پیٹھ پھیرے ۔ اور صبح کی جب وہ خوب روشن ہوجائے۔ بیشک دوزخ بہت بڑی چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔ آدمیوں کو ڈرانے والی ہے ۔ اسے جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یاپیچھے ہٹنا چاہے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِ: بیشک دوزخ بہت بڑی چیزوں  میں  سے ایک چیز ہے۔} اس سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ نے چاند، رات اور صبح کی قسم ارشاد فرمائی کیونکہ ان میں  اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کے عجائبات ظاہر ہیں ،اس کے بعد اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں  ارشا دفرمایا کہ بیشک دوزخ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے سے لے کر قیامت تک کے تمام گناہگار جنوں  اور انسانوں  کو عذاب دینے پر اللّٰہ تعالیٰ کے قادر ہونے پر دلالت کرنے والی بہت بڑی چیزوں  میں  سے ایک چیز ہے اور یہ دوزخ آدمیوں  میں  سے اس کوڈرانے والی ہے جو تم میں  سے ایمان لا کربھلائی کی طرف یا جنت کی طرف آگے بڑھنا چاہے یا کفر اختیار کر کے جنت سے پیچھے ہٹنا چاہے اور جہنم کے عذاب میں  گرفتار ہونا چاہے۔( روح البیان،المدثر،تحت الآیۃ:۳۵-۳۷، ۱۰ / ۲۳۸-۲۳۹، جلالین، المدثر، تحت الآیۃ: ۳۵-۳۷، ص۴۸۱، ملتقطاً)

            اس سے معلوم ہوا کہ انسان اپنے اعمال میں  مجبورِ محض نہیں  بلکہ اسے ایک طرح کا اختیار حاصل ہے۔