banner image

Home ur Surah Al Taubah ayat 62 Translation Tafsir

اَلتَّوْبَة

At Taubah

HR Background

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْۚ-وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ(62)اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَاؕ-ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ(63)

ترجمہ: کنزالایمان تمہارے سامنے اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ تمہیں راضی کرلیں اور اللہ و رسول کا حق زائد تھا کہ اسے راضی کرتے اگر ایمان رکھتے تھے۔ کیا انہیں خبر نہیں کہ جو خلاف کرے اللہ اور اس کے رسول کا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے کہ ہمیشہ اس میں رہے گا یہی بڑی رسوائی ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان ۔ (اے مسلمانو!) تمہارے سامنے اللہ کی قسم کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کرلیں حالانکہ اللہ اور اس کارسول اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ لوگ اسے راضی کریں ،اگر وہ ایمان والے ہیں ۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ یہی بڑی رسوائی ہے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{ لِیُرْضُوْكُمْ:تاکہ تمہیں راضی کرلیں۔}شانِ نزول: منافقین اپنی مجلسوں میں سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر اعتراضات کیا کرتے تھے اور مسلمانوں کے پاس آکر اس سے مکر جاتے تھے اور قسمیں کھا کھا کراپنی بَرِیَّت ثابت کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مسلمانوں کو راضی کرنے کے لئے قسمیں کھانے سے زیادہ اہم اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوراضی کرنا تھا اگر ایمان رکھتے تھے تو ایسی حرکتیں کیوں کیں جو خدا اور رسول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ناراضی کا سبب ہوں۔ آیت کے اس لفظ ’’اَنْ یُّرْضُوْهُ‘‘ میں واحد کی ضمیر اس لئے ذکر کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رضا میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کی رضا کا ایک ہی حکم ہے۔ (مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۶۲، ص۴۴۲)

اللہ تعالیٰ کے ساتھ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو راضی کرنے کی نیت شرک نہیں:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ عبادت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو راضی کرنے کی نیت کرنی شرک نہیں بلکہ ایمان کا کمال ہے۔نیز قرآنِ پاک میں بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اکٹھا ذکر کیاہے،سر دست ان میں سے 9آیات درج ذیل ہیں :

(1)… ’’وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ‘‘ (النساء:۱۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جواللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرے۔

(2)… ’’وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ‘‘ (النساء:۱۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور جواللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے۔

(3)… ’’اَلَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ  ‘‘ (المائدہ:۳۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں۔

(4)… ’’ اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ‘‘ (المائدہ:۵۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:تمہارے دوست صرف اللہاور اس کا رسول اور ایمان والے ہیں۔

(5)… ’’ اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ ‘‘(احزاب:۵۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پردنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرما دی ہے۔

(6)… ’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ‘‘ (حجرات:۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔

(7)… ’’ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ ‘‘ (حشر:۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔

(8)… ’’وَ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ‘‘ (حشر:۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں ، وہی سچے ہیں۔

 (9)… ’’وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ‘‘(منافقون:۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:عزت تو اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے۔

ذکرِ خدا جو اُن سے جدا چاہو نجدیو!

واللہ ذکرِ حق نہیں کنجی سقر کی ہے