banner image

Home ur Surah An Nisa ayat 42 Translation Tafsir

اَلنِّسَآء

An Nisa

HR Background

یَوْمَىٕذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُؕ-وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا(42)

ترجمہ: کنزالایمان اس دن تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپاسکیں گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اس دن کفار اور رسول کی نافرمانی کرنے والے تمنا کریں گے کہ کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے اور وہ کوئی بات اللہ سے چھپا نہ سکیں گے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{یَوْمَىٕذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا:اس دن کافر تمنا کریں گے۔} قیامت کے دن کی ہولناکی اور اپنے اعمال کا بدلہ دیکھ کر کفار تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں پیدا ہی نہ کیا گیا ہوتا۔ کاش! زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں دفن ہو جائیں۔ کاش! ہمیں بھی جانوروں کی طرح مٹی کر دیا جاتا پھر جب ان کی خطاؤں پر باز پُرس ہو گی تو قسمیں کھا کر کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہم مشرک نہ تھے، تب ان کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی پھرا ن کے اعضا ء بول اٹھیں گے اور سب اعمال بیان کر دیں گے،اس طرح یہ اپنی پوری کوشش کے باوجود اللہ تعالیٰ سے کوئی بات بھی چھپا نہ سکیں گے۔

اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ہر ایک کو ڈرنا چاہئے:

            یہ آیت تو کافروں کے بارے میں نازل ہوئی لیکن بہرحال دنیا میں تو ہر آدمی کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے یہی وجہ ہے قیامت کی ہولناکی اور عذابِ جہنم کی شدت کے پیشِ نظر ہمارے اَکابِر اَسلاف اور بزرگانِ دین بھی تمنا کرتے تھے کہ کاش وہ پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے۔ امیرُ المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک بار پرندے کودیکھ کر ارشاد فرمایا: اے پرندے !کاش! میں تمہاری طرح ہوتا اور مجھے انسان نہ بنایا جاتا۔ امیرُ المؤمنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فرمان ہے : میری تمناہے کہ میں ایک مینڈھا ہوتا جسے میرے اہلِ خانہ اپنے مہمانوں کے لئے ذبح کر دیتے۔ حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے :کاش! میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔ امیرُ المؤمنین حضرت عثمانِ غنی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے: میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ مجھے وفات کے بعد نہ اٹھایا جائے۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرمایا کرتے: کاش! ہم پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے۔ امُ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرمایا کرتیں : کاش! میں کوئی بھولی بسری چیز ہوتی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے کاش! میں راکھ ہوتا۔(قوت القلوب، الفصل الثانی والثلاثون، شرح مقام الخوف ووصف الخائفین۔۔۔ الخ،۱ / ۴۵۹-۴۶۰، ملخصاً)

            یہ کلمات ان ہستیوں کے ہیں جو زبانِ رسالت سے قطعی جنتی ہونے کی بشارت سے بہرہ مند ہوئے، جبکہ اب کے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ عمل نام کی کوئی چیز پلے نہیں اور بے حساب مغفرت کایقین دل میں سجائے بیٹھے ہیں۔ اے کاش! ہمیں بھی حقیقی معنوں میں ایمان پر خاتمے کی فکر، قبرو حشر کے پُر ہَول لمحات کی تیاری کی سوچ ، عذابِ جہنم سے ڈر اور جَبّار و قَہّار رب عَزَّوَجَلَّ  کا خوف نصیب ہو جائے۔