banner image

Home ur Surah Az Zariyat ayat 16 Translation Tafsir

اَلذّٰرِيـٰت

Az Zariyat

HR Background

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ(15)اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَﭤ(16)

ترجمہ: کنزالایمان بیشک پرہیزگار باغوں اور چشموں میں ہیں ۔ اپنے رب کی عطائیں لیتے ہوئے بیشک وہ اس سے پہلے نیکو کار تھے۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک پرہیزگارلوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ اپنے رب کی عطائیں لیتے ہوئے، بیشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرنے والے تھے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ: بیشک پرہیزگار۔} کفار کا انجام بیان فرمانے کے بعد اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے پرہیزگار لوگوں  کا انجام بیان فرمایا ہے۔چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک پرہیز گار لوگ ان باغوں  میں  ہوں  گے جن میں  لطیف چشمے جاری ہیں  اور اللہ تعالیٰ انہیں  جو کچھ عطا فرمائے گا اسے راضی خوشی قبول کرتے ہوں  گے ۔ بیشک وہ جنت میں  داخل ہونے سے پہلے دنیا میں  نیک کام کرتے تھے اسی لئے انہیں  یہ عظیم کامیابی نصیب ہوئی۔( ابو سعود، الذّاریات، تحت الآیۃ: ۱۵-۱۶، ۵ / ۶۲۸، خازن، الذّاریات، تحت الآیۃ: ۱۵-۱۶، ۴ / ۱۸۱، ملتقطاً)

نیک اعمال آخرت کی عظیم کامیابی حاصل ہونے کا ذریعہ ہیں :

            اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں  کئے ہوئے نیک اعمال آخرت کی عظیم کامیابی یعنی جنت اور اس کی نعمتیں  ملنے کا ذریعہ ہیں  لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے گناہوں  سے توبہ کرتا رہے اور نیک اعمال کی کثرت کرے تاکہ دنیا و آخرت کی سرفرازی نصیب ہو۔نیک اعمال کرنے والوں  کے بارے میں  ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌؕ-وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ‘‘(یونس:۲۶)

ترجمۂکنزُالعِرفان: بھلائی کرنے والوں  کے لیے بھلائی  ہے اور اس سے بھی زیادہ ہے اور ان کے منہ پر نہ سیاہی چھائی ہوگی اور نہ ذلت۔یہی جنت والے ہیں ، وہ اس میں  ہمیشہ رہیں  گے۔

            اورحضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیں  خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا’’اے لوگو! مرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  (اپنے گناہوں  سے) توبہ کر لو اور مصروف ہو جانے سے پہلے نیک اعمال کرنے میں  جلدی کر لو اور ذکر کی کثرت سے اپنے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے درمیان تعلق پیدا کر لو، اسی طرح ظاہری اور پوشیدہ طور پر صدقہ دیا کرو تو تمہیں  رزق بھی دیا جائے گا،تمہاری مدد بھی کی جائے گی اور تمہارے نقصان کی تَلافی بھی کی جائے گی۔( ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصّلاۃ والسنّۃ فیہا، باب فی فرض الجمعۃ، ۲ / ۵، الحدیث: ۱۰۸۱)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  گناہوں  سے بچنے اور نیک اعمال کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔