banner image

Home ur Surah Al Juma ayat 8 Translation Tafsir

اَلْجُمُعَة

Surah Al Juma

HR Background

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(8)

ترجمہ: کنزالایمان تم فرماؤ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ تو ضرور تمہیں ملنی ہے پھر اس کی طرف پھیرے جاؤ گے جو چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم نے کیا تھا۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم فرماؤ: بیشک وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو پس وہ ضرور تمہیں ملنے والی ہے پھر تم اس کی طرف پھیرے جاؤ گے جو ہر غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال بتادے گا ۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ: تم فرماؤ: بیشک وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو ۔} یعنی اے حبیب ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،آپ ان یہودیوں  سے فرما دیں  :اپنے کفر کے وبال کی وجہ سے تم جس موت سے بھاگتے ہواس سے کسی طرح نہیں  بچ سکتے ،بے شک وہ ضرور تمہیں  آنے والی ہے اور یہ بھاگنا تمہیں  کوئی نفع نہ دے گا ، پھر مرنے کے بعد تم اس اللّٰہ تعالیٰ کی طرف پھیرے جاؤ گے جو ہر غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے اور ا س سے تمہارا کوئی حال چھپا ہوانہیں  ہے ، پھر وہ تمہیں  تمہارے اعمال بتادے گا (کہ تم نے دنیا میں  کیا اعمال کئے تھے اوروہ تمہیں  ان اعمال کی سزا دے گا)۔( تفسیر کبیر، الجمعۃ، تحت الآیۃ: ۸، ۱۰ / ۵۴۱، روح البیان، الجمعۃ، تحت الآیۃ: ۹، ۹ / ۵۱۹-۵۲۰، ملتقطاً)

 قیامت کے دن اعمال بتائے جانے کی3 صورتیں  :

            یاد رہے کہ قیامت کے دن لوگوں  کو اعمال بتا دئیے جانے کی مختلف صورتیں  ہوں  گی،ان میں  سے تین صورتیں  درج ذیل ہیں :

(1)…اعمال نامے دکھا کر اعمال بتا دئیے جائیں  گے ،چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَاۚ-وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاؕ-وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا‘‘(کہف:۴۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور نامہ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس میں  جو( لکھا ہوا) ہوگا اس سے ڈررہےہوں  گے اورکہیں  گے: ہائے ہماری خرابی! اس نامہ اعمال کو کیاہے کہ اس نے ہر چھوٹے اور بڑے گناہ کو گھیرا ہوا ہے اور لوگ اپنے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں  گے اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں  کرے گا۔

(2)…انسان کے اَعضاء ا س کے اعمال کی گواہی دیں  گے ،چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’یَوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ‘‘(النور:۲۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس دن ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی  گواہی دیں    گے۔

            دوسری آیت میں  ارشاد ہوتا ہے:

’’اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ‘‘(یس:۶۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: آج ہم ان کے مونہوں  پر مہر لگادیں  گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں  گے اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں  گے ۔

(3)…زمین لوگوں  کے اعمال بیان کر دے گی،جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ(۴) بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا‘‘(زلزال:۴،۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس دن وہ اپنی خبریں  بتائے گی۔اس لیے کہ تمہارے رب نے اسے حکم بھیجا۔