banner image

Home ur Surah Al Hijr ayat 29 Translation Tafsir

اَلْحِجْر

Al Hijr

HR Background

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ(29)

ترجمہ: کنزالایمان تو جب میں اسے ٹھیک کرلوں اور اس میں اپنی طرف کی خاص معز ز روح پھونک لوں تو اس کے لیے سجدے میں گر پڑنا۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو جب میں اسے ٹھیک کرلوں اور میں اپنی طرف کی خاص معز ز ر وح اس میں پھونک دوں تو اس کے لیے سجدے میں گر جانا۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ: اور میں اپنی طرف کی خاص معز ز ر وح اس میں پھونک دوں ۔}اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی روح کو اپنی طرف ان کی عزت و تکریم کے طور پر منسوب فرمایا، جیسے کہا جاتا ہے: بیتُ اللّٰہ،ناقۃُ اللّٰہ ،عبداللّٰہ۔(خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۳،۲۹ / ۱۰۱)

نوٹ:روح سے متعلق کلام سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر85میں مذکور ہے۔

{فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ:تو اس کے لیے سجدے میں گر جانا۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ کریں ۔ یہ سجدہ تعظیمی تھا عبادت کا سجدہ نہیں تھا۔(خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۹، ۳ / ۱۰۱)

سجدہ تعظیمی کو جائز ثابت کرنے والوں کا رد:

یاد رہے کہ یہ آیت اور اس سے اگلی آیت اس امت کے لوگوں کے لئے سجدۂ تعظیمی کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتی، چنانچہ جو لوگ سجدۂ تعظیمی کو حضرت آدم اور حضرت یوسف  عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت کا حکم بتا کر اس کا جائز ہونا ثابت کرتے ہیں ، ان کا رد کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ سرے سے اس کا آدم یایوسف یا کسی نبی عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت ہونے ہی کاثبوت دے ،اور ہر گز نہ دے سکے گا، آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی آفرنیش سے پہلے رب عَزَّوَجَلَّ  نے یہ حکم ملائکہ کو دیا تھا: ’’فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ‘‘’’جب میں اسے ٹھیک بنالوں اوراس میں اپنی طرف کی ر وح پھونک دوں اس وقت تم اس کے لیے سجدہ میں گرنا۔‘‘

تو اس وقت نہ کوئی نبی تشریف لایا تھا نہ کوئی شریعت اتری۔ ملائکہ و بشر کے احکام جدا ہیں ،جو حکم فرشتوں کو دیا گیا وہ شریعت مِنْ قَبْلِنَا نہیں۔ قصۂ یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اتنا ثابت کہ شریعتِ یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  میں سجدۂ تحیت کی ممانعت نہ تھی کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فعلِ ممنوع نہیں کرتے، ممانعت نہ ہونا دونوں طرح ہوتاہے یا تو ان کی شریعت میں اس کے جوازکا حکم ہویہ اباحتِ شرعیہ ہوگی کہ حکمِ شرعی ہے یا ان کی شریعت میں اس کا کچھ ذکر نہ آیا ہو تو جو فعل جب تک شرع منع نہ فرمائے مباح ہے، یہ اباحتِ اصلیہ ہوگی کہ حکمِ شرعی نہیں بلکہ عدمِ حکم ہے۔ اور جب دونوں صورتیں محتمل تو ہر گز ثابت نہیں کہ شریعتِ یعقوبیہ میں اس کی نسبت کوئی حکم تھا تو شریعت مِنْ قَبْلِنَا ہونا کب ثابت، بحمدہٖ تعالیٰ شبہ کا اصل معنی ہی ساقط۔(فتاویٰ رضویہ، ۲۲ / ۵۲۰)

نیز مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’فرشتوں کا یہ سجدہ  آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی شریعت کا حکم نہ تھا کیونکہ ابھی آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی شریعت آئی ہی نہ تھی، نیز اَحکامِ شرعیہ انسانوں کے لئے ہوتے ہیں  نہ کہ فرشتوں کے لئے، نیز صرف ایک بار ہی فرشتوں نے یہ سجدہ کیا ہر دفعہ سجدہ نہ ہوا، لہٰذا اس آیت سے سجدۂ تعظیمی کے جواز پر دلیل پکڑنا جائز نہیں۔( نور العرفان، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۴۱۹-۴۲۰)

نوٹ:سجدہ ٔتعظیمی کی حرمت سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا فتاویٰ رضویہ کی 22 ویں جلد میں موجود تحقیقی رسالہ ’’اَلزُّبْدَۃُ الزَّکِیَّہْ فِیْ  تَحْرِیْمِ سُجُوْدِ التَّحِیَّہْ‘‘ (غیرُ  اللّٰہ کیلئے سجدۂ تعظیمی کے حرام ہونے کا بیان) کا مطالعہ فرمائیں ،اس رسالے میں اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے قرآنِ کریم کی آیات، 40 اَحادیث، بیسیوں فقہی نصوص اور علماء واولیاء کے اجماع سے سجدۂ تعظیمی حرام ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے۔