banner image

Home ur Surah Al Taubah ayat 75 Translation Tafsir

اَلتَّوْبَة

At Taubah

HR Background

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَىٕنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(75)فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ(76)

ترجمہ: کنزالایمان اور ان میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر ہمیں اپنے فضل سے دے گا تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور ہم ضرور بھلے آدمی ہوجائیں گے۔ تو جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اس میں بخل کرنے لگے اور منہ پھیر کر پلٹ گئے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ان میں کچھ وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا ہوا ہے کہ اگراللہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا تو ہم ضرور صدقہ دیں گے اور ہم ضرور صالحین میں سے ہوجائیں گے۔ پھر جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمایا تو اس میں بخل کرنے لگے اور منہ پھیر کر پلٹ گئے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ:اور ان میں کچھ وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا ہوا ہے۔} شانِ نزول: ایک شخص ثعلبہ نے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے درخواست کی کہ اس کے لئے مالدار ہونے کی دعا فرمائیں۔ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :اے ثعلبہ تھوڑا مال جس کا تو شکر ادا کرے اس بہت سے بہتر ہے جس کا شکر ادا نہ کرسکے۔ دوبارہ پھر ثعلبہ نے حاضر ہو کر یہی درخواست کی اور کہا اسی کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا کہ اگر وہ مجھے مال دے گا تو میں ہر حق والے کا حق ادا کروں گا ۔حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دعا فرمائی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی بکریوں میں برکت فرمائی اور اتنی بڑھیں کہ مدینہ میں ان کی گنجائش نہ ہوئی تو ثعلبہ ان کو لے کر جنگل میں چلا گیا اور جمعہ و جماعت کی حاضری سے بھی محروم ہوگیا۔ حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کا حال دریافت فرمایا تو صحابۂ  کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کیا کہ اس کا مال بہت کثیر ہوگیا ہے اور اب جنگل میں بھی اس کے مال کی گنجائش نہ رہی۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ثعلبہ پر افسوس پھر جب حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے زکوٰۃ کے وصول کرنے والے بھیجے تو لوگوں نے انہیں اپنے اپنے صدقات دئیے، جب ثعلبہ سے جا کر انہوں نے صدقہ مانگا اس نے کہا یہ توٹیکس ہوگیا، جاؤ میں پہلے سوچ لوں۔ جب یہ لوگ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں واپس آئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے کچھ عرض کرنے سے قبل دو مرتبہ فرمایا ، ثعلبہ پر افسوس۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی پھر ثعلبہ صدقہ لے کر حاضر ہوا تو سرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے قبول فرمانے کی ممانعت فرما دی، وہ اپنے سر پر خاک ڈال کر واپس ہوا۔ پھر اس صدقہ کو خلافت صدیقی میں حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس لایا انہوں نے بھی اسے قبول نہ فرمایا۔ پھر خلافت فاروقی میں حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس لایا انہوں نے بھی قبول نہ فرمایا اور خلافتِ عثمانی میں یہ شخص ہلاک ہوگیا۔(مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۷۵، ص۴۴۶، ملتقطاً)

ثعلبہ کی توبہ کیوں قبول نہ ہوئی:

ثعلبہ کی توبہ اس لئے قبول نہیں ہوئی کہ اس کا توبہ کرنا اور رونا دھونا دل سے نہ تھا بلکہ لوگوں کے درمیان اس کے مردود ہونے کی وجہ سے جو ذلت ہورہی تھی وہ اس سے بچنے کیلئے واویلا کررہا تھا تو چونکہ توبہ صدقِ دل سے نہ تھی اس لئے مقبول نہ ہوئی۔

ثعلبہ کے نام سے متعلق ایک اہم وضاحت:

          یہاں ایک وضاحت کردینا مناسب ہے اور وہ یہ کہ تفسیرحدیث اور سیرت کی عام کتب میں اس شخص کا نام ’’ثعلبہ بن حاطب‘‘ لکھا ہو اہے، علامہ ابن حجر عسقلانی اور علامہ ابنِ اثیر جزری کی تحقیق یہ ہے کہ اس شخص کا نام ’’ثعلبہ بن حاطب‘‘ درست نہیں کیونکہ ثعلبہ بن حاطب بدری صحابی ہیں اور وہ جنگ اُحد میں شہید ہو گئے تھے اور بدری صحابہ کے بارے میں قرآن و حدیث میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کی روشنی میں دیکھا جائے تو ثعلبہ بن حاطب اس آیت کا مِصداق نہیں ہو سکتے نیز جب وہ جنگ ِ احد میں شہید ہوگئے تو وہ اس کے مِصداق ہوہی نہیں سکتے کہ یہ شخص تو زمانۂ عثمانی میں مرا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ آیت میں جس شخص کا واقعہ مذکور ہے وہ ثعلبہ بن حاطب کے علاوہ کوئی اور ہے اور تفسیر ابن مردویہ میں مذکور حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت کے مطابق وہ شخص ’’ثعلبہ بن ابو حاطب‘‘تھا۔ علامہ محمد بن یوسف صالحی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ’سبل الہدٰی والرشاد‘‘ میں اور علامہ زبیدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اتحاف میں اس تحقیق سے اتفاق کیا ہے۔ اسی طرح اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’یہ شخص جس کے باب میں یہ آیت اتری ثعلبہ ابن ابی حاطب ہے اگرچہ یہ بھی قوم اَوس سے تھا اور بعض نے اس کانام بھی ثعلبہ ابن حاطب کہا۔ مگروہ بدری خود زمانۂ اقدس حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں جنگ اُحد میں شہیدہوئے اور یہ منافق زمانۂ خلافت امیرالمومنین عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں مرا۔(فتاویٰ رضویہ، فوائد تفسیریہ وعلوم قرآن، ۲۶ / ۴۵۳-۴۵۴)

            اور علامہ شریف الحق امجدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’صحیح یہ ہے کہ (وہ شخص) ثعلبہ بن ابی حاطب ہے جیسا کہ خازن اور اصابہ میں ہے۔ ثعلبہ بن حاطب بن عمرو صحابیٔ مخلص تھے جو بدر اور اُحد میں شریک ہوئے اور احد میں شہید ہوئے،اور یہ ثعلبہ بن ابی حاطب خلافت عثمانی میں مرا۔ (فتاوی شارح بخاری، عقائد متعلقہ صحابۂ کرام، ۲ / ۴۳)