banner image

Home ur Surah Ar Rum ayat 23 Translation Tafsir

اَلرُّوْم

Ar Rum

HR Background

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ(23)

ترجمہ: کنزالایمان اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کا فضل تلاش کرنا بے شک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لئے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کا فضل تلاش کرنا اس کی نشانیوں میں سے ہے ،بے شک اس میں سننے والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ: اور اس کی نشانیوں  میں  سے ہے۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیّت پر انسان کی ان صفات سے اِستدلال فرمایا ہے جو انسان سے جدا ہو جاتی ہیں ، چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! رات اور دن میں  تمہارا سونا اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں  میں  سے ہے کہ تمہیں  عادت کے مطابق رات میں  نیند آتی ہے اور ضرورت کے وقت تم دن میں  بھی سوجاتے ہوجس سے تھکن دور ہوتی اور تمہارے بدن کو راحت حاصل ہوتی ہے، یونہی دن میں  تم سفر کرتے اور اپنی معیشت کے اسباب کو تلاش کر تے ہو،تو غور کرو کہ تم پر نیند کون طاری کرتا ہے اور نیند کا یہ معمول کس نے بنایا ہے اور تمہیں  معیشت کے اسباب تلاش کرنے کی ہمت اور صلاحیت کس نے دی ہے؟اگرتم لاپرواہی اور ضدسے کام نہ لو تو تمہیں  یہی کہنا پڑے گا کہ ہزاروں  برس سے انسانوں  کا یہ معمول اوران کا یہ فطری نظام صرف اسی اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے جو یکتا معبود ہے اوراس کی قدرت کامل ہے ۔( تفسیرکبیر، الروم، تحت الآیۃ: ۲۳، ۹ / ۹۳، روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۲۳، ۷ / ۲۱-۲۲، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۲۳، ۳ / ۴۶۲، ملتقطاً)

             اس آیت میں  مرنے کے بعد اٹھائے جانے پر بھی دلیل موجودہے اور وہ یہ کہ سونے والا مردہ کی مانند ہے تو جو ذات سونے والے کو بیدار کرنے پر قادر ہے تو وہ مرنے والے کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔