banner image

Home ur Surah Sad ayat 31 Translation Tafsir

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُ(31)فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْۚ-حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ(32)رُدُّوْهَا عَلَیَّؕ-فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ(33)

ترجمہ: کنزالایمان جبکہ اس پر پیش کئے گئے تیسرے پہر کو کہ روکئے تو تین پاؤں پر کھڑے ہوں چوتھے سُم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے اور چلائیے تو ہوا ہوجائیں ۔ تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے۔ پھر حکم دیا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ ترجمہ: کنزالعرفان جب اس کے سامنے شام کے وقت ایسے گھوڑے پیش کئے گئے جوتین پاؤں پر کھڑے (اور) چوتھے سم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے تھے ، بہت تیز دوڑنے والے تھے۔ تو سلیمان نے کہا: مجھے اپنے رب کی یاد کیلئے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے (پھر انہیں چلانے کا حکم دیا) یہاں تک کہ وہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے۔ ۔(پھر حکم دیا کہ) انہیں میرے پاس واپس لاؤ تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ: جب اس کے سامنے پیش کئے گئے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت میں  ظہر کی نماز کے بعد جہاد کے لئے ایک ہزار گھوڑے پیش کئے گئے تاکہ وہ انہیں  دیکھ لیں  اور ان کے اَحوال کی کَیفِیَّت سے واقف ہو جائیں  ،ان گھوڑں  میں  خوبی یہ تھی کہ وہ تین پاؤں  پر کھڑے اور چوتھے سم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے تھے جو ایک خوبصورت انداز تھا اور وہ بہت تیز دوڑنے والے تھے ۔انہیں  دیکھ کر حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا:’’میں ان سے اللہ تعالیٰ کی رضاء اور دین کی تَقْوِیَت و تائیدکے لئے محبت کرتا ہوں ، میری ان کے ساتھ محبت دُنْیَوی غرض سے نہیں  ہے۔ پھرحضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں  چلانے کا حکم دیا یہاں  تک کہ وہ نظر سے غائب ہوگئے،پھر حکم دیا کہ انہیں  میرے پاس واپس لاؤ، جب گھوڑے واپس پہنچے تو حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کی پنڈلیوں  اور گردنوں  پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ اس ہاتھ پھیرنے کی چند وجوہات تھیں،

(1)… گھوڑوں  کی عزت و شرف کا اظہار مقصود تھاکہ وہ دشمن کے مقابلے میں  بہتر مددگار ہیں ۔

(2)… اُمورِ سلطنت کی خود نگرانی فرمائی تا کہ تمام حُکام مُستَعِد رہیں  ۔

(3)… آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گھوڑوں  کے اَحوال اور ان کے اَمراض و عُیوب کے اعلیٰ ماہر تھے ان پر ہاتھ پھیر کر اُن کی حالت کا امتحان فرماتے تھے۔ بعض لوگوں نے ان آیات کی تفسیر میں  بہت سے غلط اَقوال لکھ دیئے ہیں  جن کی صحت پر کوئی دلیل نہیں  اور وہ محض حکایات ہیں  جو مضبوط دلائل کے سامنے کسی طرح قابلِ قبول نہیں  اور یہ تفسیر جو ذکر کی گئی یہ الفاظ ِ قرآنی سے بالکل مطابق ہے۔( جلالین، ص، تحت الآیۃ: ۳۱-۳۳،ص۳۸۲، تفسیرکبیر، ص، تحت الآیۃ: ۳۱-۳۳، ۹ / ۳۸۹-۳۹۲، ملتقطاً)