banner image

Home ur Surah Al Araf ayat 145 Translation Tafsir

اَلْاَعْرَاف

Al Araf

HR Background

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍۚ-فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَاؕ-سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ(145)

ترجمہ: کنزالایمان اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اور فرمایا اے موسیٰ اسے مضبوطی سے لے اور اپنی قوم کو حکم دے کہ اس کی اچھی باتیں اختیار کریں عنقریب میں تمہیں دکھاؤں گا بے حکموں کا گھر۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ہم نے اس کے لیے (تورات کی) تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی (اور فرمایا) اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ اس کی اچھی باتیں اختیار کریں ۔ عنقریب میں تمہیں نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ:اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں لکھ دی۔} حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ اَلْاَلْوَاحِ‘‘ یعنی تختیوں سے مراد تورات کی تختیاں ہیں اور آیت کامعنی یہ ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کیلئے تورات کو تختیوں میں لکھ دیا، جن تختیوں میں تورات کو لکھا گیا وہ زبر جد یا زمرد کی تھیں اور ان کی تعداد سات یا دس تھی۔ تورات عید الاضحی کے دن حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو عطا ہوئی۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۲ / ۱۳۸، تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۵ / ۳۶۰، ملتقطاً)

            نیزاس آیت میں مزید یہ چیزیں بیان ہوئی ہیں :

(1)…ہر چیز کی نصیحت، اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کو اپنے دین میں حلال حرام اور اچھی بری چیزوں سے متعلق جن احکام کی ضرورت تھی وہ سب تورات میں لکھی ہوئی تھیں۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۵ / ۳۶۰)

(2)… ہر چیز کی تفصیل، اس کا معنی یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو جتنے احکامِ شرعیہ دئیے گئے تھے تورات میں ان تمام احکام کی تفصیل لکھ دی تھی۔ (تفسیر قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۴ / ۲۰۳، الجزء السابع)

 (3)… تورات کو مضبوطی سے پکڑنا۔ قوت اور مضبوطی سے پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ بڑی کوشش، چستی، ہوشیاری اور شوق سے اس میں موجود احکام پر عمل کرنے کا عزم کر کے اس کو ہاتھ میں لو۔ (قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۴ / ۲۰۳، الجزء السابع، بیضاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۳ / ۵۸، ملتقطاً)

            نوٹ:یاد رہے کہ ا س میں خطاب اگرچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ہے لیکن اس سے مراد آپ کے ساتھ آپ کی قوم بھی ہے۔

(4)…تورات کی اچھی باتیں اختیار کرنے کا حکم دینا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ تورات میں جو احکام مذکور ہیں ان میں جو زیادہ بہتر ہو اسے اختیار کرنے کا حکم دو کیونکہ تورات میں عزیمت اور رخصت،جائز اور مُستحب اُمور کا بھی ذکر ہے۔ عزیمت پر عمل کرنا رخصت پر عمل کے مقابلے میں بہترہے (صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۲ / ۷۰۹)

ایک قول یہ ہے کہ تورات میں اَمر و نہی کا بیان ہے ، تو جس کام کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اسے کرنے اور جس سے منع کیا گیا ہے اس سے رک جانے کا حکم دو۔ (تفسیر طبری، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۶ / ۵۹)

           اور ایک قول یہ ہے کہ تورات میں فرائض ،نوافل اور مباح کاموں کے احکام ہیں۔ فرائض و نوافل پر عمل کرنا بہترین عمل ہے اور صرف فرائض پر عمل کرنا ا س سے کم درجے کا ہے اور مباح پر عمل کرنا اس سے بھی کم درجے کا ہے۔ تو جو عمل بہترین ہے اس کے کرنے کا حکم دو۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۵ / ۳۶۰)

{سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ:عنقریب میں تمہیں نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا۔} مفسرین نے اس آیت کے کئی معنی بیان کئے ہیں۔حضرت حسن اور عطا  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمانے کہا کہ بے حکموں کے گھر سے جہنم مراد ہے۔ اور حضرت قتادہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ کا قول ہے کہ’’ معنی یہ ہیں کہ میں تمہیں شام میں داخل کروں گا اور گزری ہوئی اُمتوں کے منازل دکھاؤں گا جنہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخالفت کی تاکہ تمہیں اس سے عبرت حاصل ہو ۔ اور عطیہ عوفی کا قول ہے کہ دَارَ الْفٰسِقِیْنَسے فرعون اور اس کی قوم کے مکانات مراد ہیں جومصر میں ہیں۔ اور مفسر سدی کا قو ل ہے کہ اس سے منازلِ کفار مراد ہیں۔ کلبی نے کہا کہ اس سے عاد وثمود اور ہلاک شدہ اُمتوں کے منازل مراد ہیں جن پر عرب کے لوگ اپنے سفروں میں ہو کر گزرا کرتے تھے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۲ / ۱۴۰)