banner image

Home ur Surah Al Fajr ayat 16 Translation Tafsir

اَلْفَجْر

Al Fajr

HR Background

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ ﳔ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِﭤ(15)وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ ﳔ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِ(16)

ترجمہ: کنزالایمان لیکن آدمی تو جب اسے اس کا رب آزمائے کہ اس کو جاہ اور نعمت دے جب تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت دی ۔ اور اگر آزمائے اور اس کا رزق اس پر تنگ کرے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے خوار کیا۔ ترجمہ: کنزالعرفان توبہرحال آدمی کوجب اس کا رب آزمائے کہ اس کوعزت اور نعمت دے تو اس وقت وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی۔ اور بہرحال جب (اللہ ) بندے کو آزمائے اور اس کا رزق اس پر تنگ کردے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{فَاَمَّا الْاِنْسَانُ: تو بہرحال آدمی۔} یہاں  سے انسان کی آزمائش کا بیان کیا گیا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ بندوں  کو مال و دولت اور نعمت و عزت دے کر بھی آزماتا ہے اورواپس لے کر بھی آزماتا ہے ۔ اس میں  مومن و مخلص اور مطیع و فرمانبردار تو ہر حال میں  اللّٰہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتا ہے کہ نعمت پر شکر کرتا ہے اور مصیبت پر صبر ،لیکن غافل اورجاہل کا طرز ِ عمل اس کے برخلاف ہوتا ہے کہ اگر اسے نعمت و عزت کے ذریعے آزمایا جائے تو وہ خودپسندی کا شکار ہوجاتاہے اور اس نعمت پر اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور اُسے اللّٰہ تعالیٰ کا فضل و احسان قرار دینے کی بجائے اپنا حق سمجھتا ہے اور اپنا کمال قرار دیتا ہے اور اِس دُنْیَوی مال و دولت کو اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں  مقبولیت کی دلیل قرار دیتا ہے ۔ اس کے برعکس جب اللّٰہ تعالیٰ اُسے رزق کی تنگی میں  مبتلا کرکے یا دوسری تکالیف کے ذریعے آزماتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ سے شکوہ و شکایت کرتا ہے اور ہر ایک کے سامنے جا کر واویلا کرتا ہے اور مال و دولت کی اِس کمی کو اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں  مَردُوْدِیَّت کی علامت سمجھتا ہے۔ یہ تمام کا تمام طرز ِ عمل حقیقی مسلمان کی شان کے برخلاف ہے کہ سچے مسلمان کو اگر مال و دولت اور عزت ملتی ہے تو وہ اسے اپنا ذاتی اِستحقاق قرار دینے کی بجائے خالصتاً اللّٰہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا فضل قرار دیتا ہے اور اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو اسے اپنے گناہوں  کا نتیجہ یا خدائی آزمائش قرار دے کر اللّٰہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتا ہے۔ یونہی سچے مسلمان مال و دولت کی کثرت کو اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں مقبولیت اور قِلت کو مَردُوْدِیَّت کی دلیل نہیں  سمجھتے بلکہ ان کے نزدیک مقبولیت کا معیار تقویٰ ہے اور مردودیت کا سبب نافرمانی ہے۔

             ان آیاتِ مبارکہ میں  جو طرز ِ عمل بیان کیا گیا ہے یہ حقیقتاً کفار کا ہے لیکن افسوس کہ آج کل کے بہت سے نام نہاد مسلمان بھی غیر مسلموں  کی دُنْیَوی ترقی سے مرعوب ہوکرایسی سوچ بنالیتے ہیں  کہ اگر کفار مردود ہیں  تو اتنی نعمت و ترقی میں  کیوں  ہیں  اور اگر مسلمان مقبول ہیں  تو اتنی ذلت و پستی میں  کیوں  ہیں  حالانکہ بات بالکل واضح ہے کہ مسلمان کی موجودہ پستی اسلام کی وجہ سے نہیں  بلکہ ترک ِ اسلام کی وجہ سے ہے یعنی اسلامی تعلیمات چھوڑنے کی وجہ سے ہے اور کفار کی ترقی ان کے کفر کی وجہ سے نہیں  بلکہ زندگی گزارنے کی جو حقیقی اسلامی تعلیمات ہیں  ان میں  بہت ساری چیزوں  پر عمل کی وجہ سے ہے۔