banner image

Home ur Surah Al Furqan ayat 66 Translation Tafsir

اَلْفُرْقَان

Al Furqan

HR Background

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ﳓ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا(65)اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا(66)

ترجمہ: کنزالایمان اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہم سے پھیر دے جہنم کا عذاب بیشک اس کا عذاب گلے کا غُل ہے۔ بیشک وہ بہت ہی بری ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور وہ جو عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب!ہم سے جہنم کا عذاب پھیر دے، بیشک اس کا عذاب گلے کا پھندا ہے۔ بیشک وہ بہت ہی بری ٹھہرنے اور قیام کرنے کی جگہ ہے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{رَبَّنَا: اے ہمارے رب!} کامل ایمان والوں  کی شب بیداری اور عبادت کا ذکر فرمانے کے بعد ا س آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں  ان کی ایک دعا کا بیان فرمایا کہ وہ اپنی نمازوں  کے بعد اور عام ا وقات میں یوں  عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب!ہم سے جہنم کا عذاب پھیر دے جو کہ انتہائی شدید دردناک ہے، بیشک اس کا عذاب گلے کا پھندا اورکافروں  سے جدا نہ ہونے والا ہے،بیشک جہنم بہت ہی بری ٹھہرنے اور قیام کرنے کی جگہ ہے۔(مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۵-۶۶، ص۸۱۰، روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۵-۶۶، ۶ / ۲۴۳، ملتقطاً)

آیت ’’ وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا‘‘ سے معلوم ہونے والی باتیں :

            اس آیت سے  تین باتیں  معلوم ہوئیں ،

(1)… اپنی عبادت و ریاضت پر بھروسہ کرنے کی بجائے اللہ تعالٰی کی رحمت اور کرم پر بھروسہ کرنا چاہئے اور اس کی خفیہ تدبیر سے خوفزدہ رہنا چاہئے کہ یہ کامل ایمان والوں  کا طریقہ ہے۔ چنانچہ امام عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :ان کی اس دعا سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ وہ کثرتِ عبادت کے باوجود اللہ تعالٰی کا خوف رکھتے ہیں  اور اس کی بارگاہ میں  عاجزی،اِنکساری اور گریہ و زاری کرتے ہیں ۔(مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۵، ص۸۱۰)

(2)…علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اس آیت میں  یہ بتایاگیا ہے کہ کامل ایمان والے مخلوق کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے اور اللہ تعالٰی کی عبادت میں  خوب کوشش کرنے کے باوجود اللہ تعالٰی کے عذاب سے بہت ڈرتے ہیں  اور اپنے اوپر سے عذاب پھیر دئیے جانے کی گریہ و زاری کے ساتھ التجائیں  کرتے ہیں ،گویا کہ وہ انتہائی عبادت گزاری اور پرہیزگاری کے باوجود جب اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں  دعا کرتے ہیں  تو خود کو گناہگاروں  میں  شمار کرتے ہیں  اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کو شمار نہیں  کرتے اور اپنے احوال پر بھروسہ نہیں  کرتے۔(روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۶، ۶ / ۲۴۳-۲۴۴)

(3)…بطورِ خاص نماز کے بعد دعا کرنی چاہئے، نماز پڑھنے والا تنہا نماز پڑھے یا جماعت کے ساتھ، امام ہو یا مقتدی اور عمومی طور پرجب بھی موقع ملے اللہ تعالٰی سے دعا مانگتے رہنا چاہئے۔