banner image

Home ur Surah Al Yusuf ayat 32 Translation Tafsir

يُوْسُف

Yusuf

HR Background

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِؕ-وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَؕ-وَ لَىٕنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ(32)

ترجمہ: کنزالایمان زلیخا نے کہا تو یہ ہیں وہ جن پر تم مجھے طعنہ دیتی تھیں اور بیشک میں نے ان کا جی لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچا یا اور بیشک اگر وہ یہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں پڑیں گے اور وہ ضرور ذلت اٹھائیں گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان زلیخا نے کہا: تو یہ ہیں وہ جن کے بارے میں تم مجھے طعنہ دیتی تھیں اور بیشک میں نے ان کا دل لبھانا چاہا تو اِنہوں نے اپنے آپ کو بچالیا اور بیشک اگر یہ وہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں ڈالے جائیں گے اور ضرور ذلت اٹھانے والوں میں سے ہوں گے ۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{قَالَتْ:زلیخا نے کہا۔} عورتوں نے جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھا تو وہ ان کے حسن و جمال میں گم ہو گئیں ، یہ دیکھ کر زلیخا نے ان سے کہا ’’یہ ہیں وہ جن کے بارے میں تم مجھے طعنہ دیتی تھیں ،اب تم نے دیکھ لیا اور تمہیں معلوم ہوگیا کہ میرا دیوانہ پن کچھ قابلِ تعجب اور ملامت نہیں اور بیشک میں نے ان کا دل لبھانا چاہا تو اِنہوں نے اپنے آپ کو بچالیا اور کسی طرح میری طرف مائل نہ ہوئے۔ اس پر مصری عورتوں نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا کہ آپ زلیخا کا کہنا مان لیجئے ۔ ان کی بات سن کرزلیخا بولی ’’  بیشک اگر یہ وہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں ڈالے جائیں گے اور ضرور ذلت اٹھانے والوں میں سے ہوں گے  اور چوروں ، قاتلوں اور نافرمانوں کے ساتھ جیل میں رہیں گے، کیونکہ انہوں نے میرا دل مجھ سے چھین لیا اور میری نافرمانی کی اور فراق کی تلوار سے میرا خون بہایا تو اب انہیں بھی خوشگوار کھانا پینا اور آرام کی نیند سونا میسر نہ ہوگا، جیسا میں جدائی کی تکلیفوں میں مصیبتیں جھیلتی اور صدموں میں پریشانی کے ساتھ وقت کاٹتی ہوں یہ بھی تو کچھ تکلیف اٹھائیں ،میرے ساتھ ریشم میں شاہانہ چارپائی پر عیش گوارا نہیں ہے تو قید خانے کے چبھنے والے بوریئے پر ننگے جسم کو دُکھانا گوارا کریں ، حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یہ سن کر مجلس سے اٹھ گئے اور مصری عورتیں ملامت کرنے کے بہانے سے باہر آئیں اور ایک ایک نے آپ سے اپنی تمنّائوں اور مرادوں کا اظہار کیا ۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی گفتگو بہت ناگوار ہوئی تو بارگاہِ الٰہی میں عرض کی۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۲، ۳ / ۱۸، مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۵۲۸-۵۲۹، ملتقطاً)