banner image

Home ur Surah Ash Shura ayat 29 Translation Tafsir

اَلشُّوْرٰی

Ash Shura

HR Background

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍؕ-وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ(29)

ترجمہ: کنزالایمان اور اُس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جو چلنے والے ان میں پھیلائے اور وہ ان کے اکٹھا کرنے پر جب چاہے قادر ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور ان میں جو جانداراس نے پھیلائے ہیں سب اس کی نشانیوں میں سے ہیں اور وہ ان سب کو اکٹھا کرنے پرجب چاہے قادر ہے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ: اور اس کی نشانیوں  سے ہے۔} یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کے دلائل اور اس کی قدرت کے عجائبات میں  سے زمین و آسمان کی پیدائش ہے،کیونکہ یہ دونوں  اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے اپنے خالق کی قدرت اور کمالات پر دلالت کرتے ہیں ۔ان نشانیوں  کے بارے میں  ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ(۶)وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ(۷) تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ‘‘(ق:۶۔۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا انہوں  نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا ہم نے اسے کیسے بنایا اور سجایا اور اس میں  کہیں  کوئی شگاف نہیں ۔ اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں  بڑے  بڑے پہاڑ ڈالے اور اس میں  ہر بارونق جوڑا اگایا۔ ہر رجوع کرنے والے بندے کیلئے بصیرت اور نصیحت کیلئے۔

مزید ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو زمین پر چلنے والے انسان اور دیگر جاندار پیدا فرمائے ہیں  یہ سب بھی اس کی قدرت اور وحدانیّت کی نشانیوں  میں  سے ہیں  اور اللہ تعالیٰ جب اور جس وقت چاہے ان سب کو حشر کے لئے اکٹھا کرنے پر قادر ہے۔( جلالین مع صاوی، الشوری، تحت الآیۃ: ۲۹، ۵ / ۱۸۷۴، ملخصاً)